جمعرات 6 اگست 2026 - 09:32
رہبرِ انقلاب شہید سید علی خامنہ ای (رح) کی منفرد خصوصیات (قسط10)

حوزہ/رہبرِ شہید متعدد مرتبہ فرمایا کرتے تھے کہ اسلامی انقلاب کا مقصد صرف حکومت قائم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی جدید اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھنا ہے جو ایمان، علم، عدل، آزادی، معنویت اور انسانی کرامت پر استوار ہو۔ آپ کے نزدیک اسلامی نظام اس عظیم سفر کی منزل نہیں بلکہ اس کی ایک اہم کڑی ہے۔

ترتیب وترجمہ: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری

حوزہ نیوز ایجنسی|

ایران کی حکمرانی کی تاریخ میں شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہ‌ای(رح) کی بعض بے مثال اختصاصی خصوصیات ہیں جنہیں ہم ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اختصاصی خصوصیات سے مراد کسی شخصیت کی وہ منفرد خصوصیات ہیں جو تاریخ میں اسے ممتاز بناتی ہیں۔اس سلسلۂ تحریر میں ہم انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر کی انہی منفرد خصوصیات کا جائزہ لیں گے؛ یعنی وہ غیر معمولی صفات جو اس سرزمین کی حکمرانی کی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔

دسویں خصوصیت: نئے اسلامی تمدن کے معمار

رہبرِ شہید متعدد مرتبہ فرمایا کرتے تھے کہ اسلامی انقلاب کا مقصد صرف حکومت قائم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی جدید اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھنا ہے جو ایمان، علم، عدل، آزادی، معنویت اور انسانی کرامت پر استوار ہو۔ آپ کے نزدیک اسلامی نظام اس عظیم سفر کی منزل نہیں بلکہ اس کی ایک اہم کڑی ہے۔

شہید رہبر نے اسلامی انقلاب کے ارتقائی مراحل کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سفر انقلابِ اسلامی سے اسلامی نظام، پھر اسلامی ریاست، اس کے بعد اسلامی معاشرہ اور بالآخر تمدنِ نوینِ اسلامی کی تشکیل تک جاری رہتا ہے۔ یہی نظریہ آپ کی تمدنی فکر کا بنیادی ستون تھا اور آپ نے اپنی پوری قیادت اسی ہدف کی جانب قوم کی رہنمائی میں صرف کی۔

رہبرِ شہید نے اپنے تاریخی "بیانیۂ گامِ دومِ انقلاب" میں بھی واضح فرمایا کہ اسلامی انقلاب کا حتمی مقصد "تمدنِ نوینِ اسلامی کی تشکیل اور حضرت ولیِ عصرؑ کے ظہورِ مبارک کے لیے آمادگی" ہے۔ اس طرح آپ نے اسلامی انقلاب کو صرف ایک قومی یا سیاسی تحریک نہیں بلکہ ایک عالمی، الٰہی اور تمدنی منصوبے کے طور پر متعارف کرایا۔

بیانیۂ گامِ دوم میں آپ نے بالخصوص نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں مستقبل کے اس عظیم تمدنی سفر کا اصل معمار قرار دیا۔ آپ کے نزدیک علم، معنویت، اخلاق، عدالت، آزادی، عزتِ ملی، معیشت، تحقیق، خودسازی، معاشرہ سازی اور بالآخر تمدن سازی ایک ہی مسلسل زنجیر کے باہم مربوط حلقے ہیں، جن کی آخری منزل تمدنِ نوینِ اسلامی ہے؛ وہ تمدن جو ظہورِ حضرت امام مہدیؑ کے لیے مناسب عالمی فضا ہموار کرے گا۔

رہبرِ شہید ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ آج کی دنیا شدید فکری، اخلاقی اور روحانی بحران سے دوچار ہے۔ مادہ پرستی، استکبار، ظلم، خاندانی نظام کی کمزوری، اخلاقی انحطاط اور معنویت سے دوری نے انسانیت کو بے سکون کر دیا ہے۔ آپ کے نزدیک ان بحرانوں کا حقیقی علاج صرف تمدنِ نوینِ اسلامی ہے، جو علم و ٹیکنالوجی کو اخلاق، عدالت، خدا محوری اور انسانی کرامت کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔

رہبر شہید فرمایا کرتے تھے کہ تمدنِ نوینِ اسلامی صرف مسلمانوں کا خواب نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ضرورت ہے۔ یہ ایسی تہذیب ہے جو طاقت کے بجائے عدالت، استحصال کے بجائے خدمت، مادہ پرستی کے بجائے معنویت، اور ظلم کے بجائے انسانی عزت و آزادی کو فروغ دیتی ہے۔اسی مقصد کے لیے آپ نے "اسلامی۔ایرانی نمونۂ پیشرفت"، "اقتصاد مقاومتی"، "علمی مرجعیت"، "جہادِ تبیین" اور ثقافتی خود اعتمادی جیسے نظریات پیش کیے، تاکہ اسلامی معاشرہ تمدنی خود کفالت کی منزل کی طرف گامزن ہو سکے۔

رہبرِ شہید کا پختہ یقین تھا کہ کسی بھی عظیم تہذیب کی بنیاد علم اور تحقیق پر استوار ہوتی ہے۔ اسی لیے آپ نے بارہا نوجوانوں، جامعات اور تحقیقی مراکز کو مخاطب کرتے ہوئے علم، اختراع اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت پر زور دیا۔ آپ کی مسلسل رہنمائی کے نتیجے میں جوہری سائنس، نینو ٹیکنالوجی، حیاتیاتی علوم، خلائی تحقیق اور دفاعی صنعت میں غیر معمولی پیش رفت حاصل ہوئی، جنہیں آپ تمدن سازی کے عملی مقدمات قرار دیتے تھے۔

شہید رہبر نوجوان نسل کو تمدنِ نوینِ اسلامی کا اصل معمار قرار دیتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ اگر نوجوان ایمان، علم، خود اعتمادی، انقلابی فکر اور اخلاقِ اسلامی سے آراستہ ہو جائیں تو اسلامی امت ایک بار پھر انسانی تہذیب کی رہنمائی کر سکتی ہے۔آپ کی نظر میں تمدن سازی صرف اقتصادی یا سائنسی ترقی کا نام نہیں، بلکہ خاندان، تعلیم، ثقافت، اخلاق، عدل، معیشت، سیاست، میڈیا، فنون اور بین الاقوامی تعلقات سمیت انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی اقدار کا عملی نفاذ ہی حقیقی تمدن سازی ہے۔

شہید رہبر نے اپنی پوری قیادت کے دوران علمی مراکز، حوزات، جامعات، اساتذہ، دانشوروں، فنکاروں اور ثقافتی اداروں کو بارہا اس عظیم تاریخی ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا کہ ان کا اصل فریضہ صرف تعلیم یا تحقیق نہیں بلکہ تمدنِ نوینِ اسلامی کی فکری، علمی اور ثقافتی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے۔

رہبرِ شہید کی پوری زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار تھی کہ وہ صرف ایک ریاست کے مدیر نہیں بلکہ ایک نئی تہذیب کے معمار تھے۔ آپ کی تمام فکری، ثقافتی، علمی اور سیاسی جدوجہد کا محور یہی تھا کہ اسلامی انقلاب اپنے تمدنی ہدف تک پہنچے اور دنیا کے سامنے عدل، معنویت، علم اور انسانی کرامت پر مبنی ایک نئی اسلامی تہذیب پیش کرے۔

اسی لیے رہبرِ شہید کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظیم رہنما صرف اپنے زمانے کے مسائل حل نہیں کرتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے فکر، امید، خود اعتمادی اور ایک روشن تمدنی افق بھی چھوڑ جاتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha